یہاں تصور کرنے کے اختیار میں اُن کے لیے رُجحان ہے کہ اُنہیں دوسروں کی نصیحت سُننے کی ضرورت نہیں۔ یہ ماضی میں سجنیدہ غلطیوں کا متعدد بار سبب رہا ہے۔
چرچ اِسے واضح کر چُکا ہے کہ سارے وفادار، اور خاص ماہر الہٰیات، اُن معاملات میں جن میں وہ علم یا تجربہ رکھتے ہیں اپنے اعتراضات کی آواز کو بلند کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
"علم، فراغت اور فضیلت جس پر وہ قابض ہیں کے ساتھ باہمی رضامندی میں، ایک مسیحی ایماندار کے پاس حق ہے اور یہاں تک کہ کئی دفعہ مقدس پاسٹر کو اُن معاملات پر اپنی رائے جو چرچ کی اچھائی سے نسبت رکھتی ہے اُسے عیاں کرنے کا کام ہے۔ وہ اپنی رائے کو دوسرے مسیحی اےماندار کے لیے جاننے کا حق بھی رکھتے ہیں، اپنے پاسٹر کی جانب ایمان اور اخلاقیات اور عزت کی سالمیت کو دھیان میں لانے کے لیے۔"عوام الناس کی رائے کے بڑھنے میں بولنے کی آزادی ایک عام حقیقت ہے جو معاشرے میں خیالات اور ردِعمل کے مزید موثر گھیراؤ کو بیان کرتی ہے۔ Catholic Church Law, | ![]() حاکمیت تنقیدی اور سخت الہٰیاتی مطالعہ اور ماہر الہٰیات کی پر جوش شرکت سے بڑے فائدے کو پیش کرتا ہے۔۔۔الہٰیاتی مدد کے بغیر حاکمیت بلاشبہ ایمان کی حفاظت کرسکتی اور اُسے سکھا سکتی ہے۔ لیکن مکمل علم اور بلندی پر صرف مشکل سے پہنچتی ہے، اِسے اپنے کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، ابھی تک یہ اِس سے باخبر ہے کہ اِسے مکاشفہ یا الہام کے ساتھ وقف نہیں کرنا ہے بلکہ صرف رُوح القدس کی مدد سے"۔Communio et Progressio, |
"پھر اندھی فرمانبرداری کے بارے کیا ہے؟"





