تربیتی اختیار بدعتوں کے خلاف ایمانی معاشرے کی پاسبانی کرتا ہے۔ یہ ہماری عزت کا مستحق ہے۔ لیکن تاریخ دکھاتی ہے کہ تربیتی اختیار نے عدالت (انصاف) کی سنجیدہ غلطیاں کی ہیں، اور کرسکتا ہے۔
یہ غلطیاں تہذیبی تغیر میں کثرت سے رُونما ہوئیں۔ تربیتی اختیار نے اکثر روایتی نظریات اور عمل کاموں کو پُرانا قرار دِیا جس کی ناعاقبت اندیشی سے شناخت مسیحی ایمان کے جوہر کے ساتھ تھی۔
کچھ مثالوں کا مطالعہ کرنا سبق آموز ہے:۔
جب یورپ میں ساہو کاری شروع ہوئی، کاروبار نے پیسے کے قرضے پر سود کا تقاضا کرنا شروع کیا۔ جیسا کہ آج ہم سب کرتے ہیں۔ پرانے عہد نامے کے قوانین کی جانب جاتے ہوئے، چرچ نے اِس کی معانت (منع) کی۔کی دوسری کونسل نے(139عیسویٰ) میں ہدایت کی کہ اشخاص جو سود لیتے ہیں" وہ ساکرامنٹ میں شاملLateranنہیں ہونگے" اور :"اِس معاملے میں وہ اپنی غلطی کو واپس نہیں لیتے اُنہیں متبرک کفن دفن سے انکار کرنا چاہیے تھا۔"حاکمیت کو منسوخ کرنے میں رکاوٹ صرف 1830میں تھی۔چھ ممالک میں پیش روی کرنے کے دوران بہت سارے تجارت کا اور اُن کے خاندان چرچ سے باہر زندہ ہے اور مرے۔
| |  |
1988تک پوپس اور اُن کے دفاتر نے غلامی کے قانون کا سامنا کیا!فادرز، چرچ اراکین، پوپس اور ماہر الہٰیات نے اِس غلامی کو قائم رکھا، یہ شرعی طور پر مالک ہوسکتے، خرید سکتے اور بیچ سکتے تھے۔نے اب بھی 20جون 1866میں اعلان کیا:"غلامی بذات خود، اپنی The Congregation for Doctrine in Rome فطرت کے طور پر قیاس کی جاتی ہے یہ فطرتی قانون یا خُدا کے قانون کے برعکس نہیں ہے۔ یہاں غلامی کے بے شمار موضوعات ہوسکتے ہیں۔۔۔۔۔یہ فطرتی اور الہٰی قانون کے خلاف ہیں غلام کے بیچے جانے، خریدے، تبدیل یا دئیے جانے کے بارے۔ 
| |  Catholic bishops, theologians and activists who campaigned for abolition were branded as ‘troublemakers’ and ‘heretics’. |
معاملے کے حقیقت یہ ہے کہ حاکمیت مستقل طور پر وقتوں کے پیچھے رہی ہے: سرمایہ کے قرض پر سود لینے کے سوال میں، زمین کے سورج کے گرد چکر کاٹنے پر، ارتقاء پر، مقدس کلام کے اختیار پر، جمہوریت پر، تجارتی یونین پر، مذہبی آزادی پر، کم از کم 64سوالات پر۔ جو بھی جدید حقیقت پھوٹتی ہے، روم پہلے اِسے غلط لیتا ہے۔ کیا اب یہ مافع حمل اشیاء پر پابندی، اختیاری کنوار پن اور عورت کی مخصوصیت پر اِسی غلط راستے کی پیروی نہیں کرتا؟